← ذوقِ جمال
آقا! غلام اپنے کی اللہ لے خبر
لب پر مِرے ہے شام و سحر آہ، لے خبر
بے جَڑیوں کا ہر گزری⚠️ دِل میں جہم⚠️ ہے
جاں پر ہیں تم نم کی یوری⚠️ اے شاہ! لے خبر
رستا سُخن ہے رابزن⚠️ بیٹھتے ہیں گلات⚠️
اے مِہرباں! اے مشتاق ذی جاہ! لے خبر
ہمراہیوں کا گو کہ ہے ایک قافلۂ طویل
اکثر ہیں اُن میں دشمنِ بد خواہ! لے خبر
میں مُنتَظر ہوں عُقدہ⚠️ مِری جانِ کُھلے
آساں آپؐ ہی کریں یہ راہ، لے خبر
گر آپؐ میرے ساتھ ہیں کو گَراں ہوں میں
گر یوں نہیں تو میں ہوں پرواہ، لے خبر
ساجدؔ عبور کیسے کرے گا یہ ظُلمتیں
طیبۂ کی خندی روشنی کے ماہ! لے خبر