← شوقِ فراواں
شاہِ دیں کے نُور کا گر نہ کوئی وجود ہوتا
روحِ اس جہاں میں ہوتی نہ کوئی وجود ہوتا
جو نہ ہوتے سرُورِ دیں تو نہ ہوتے عطر و خبر
گُل و مُشک و یاسمیں اور نہ جہاں کچھ عود ہوتا
نہیں پیش کرتے آدم نبیؐ کا وسیلہ
تو کسی بھی عُقدہ کا پھر نہ کبھی کشود ہوتا
رنگ میرا انبیاءؑ ہے مِثال اس جہاں میں
یہ کمال یہ نہ ہوتا تو کہاں حسود ہوتا
وہ خُدائے پاک معلّی ہے یہ جہبیبِ⚠️ پاک قاسم
کہاں تعیّیں⚠️ یہ باتیں جو نہ دست ہود ہوتا
جو وہ ذات بخت ہوتی نہ کوئی بات ہوتی
یوں نہ کوئی عید ہوتا نہ کوئی سجود ہوتا
ہے جو آج کیف و مَستی یہ کبھی نہ ہوتی
کوئی اس جہاں میں ساجدؔ نہ یہ وجود ہوتا