شوقِ فراواں
1

شاہِ دیں کے نُور کا گر نہ کوئی وجود ہوتا

روحِ اس جہاں میں ہوتی نہ کوئی وجود ہوتا

2

جو نہ ہوتے سرُورِ دیں تو نہ ہوتے عطر و خبر

گُل و مُشک و یاسمیں اور نہ جہاں کچھ عود ہوتا

3

نہیں پیش کرتے آدم نبیؐ کا وسیلہ

تو کسی بھی عُقدہ کا پھر نہ کبھی کشود ہوتا

4

رنگ میرا انبیاءؑ ہے مِثال اس جہاں میں

یہ کمال یہ نہ ہوتا تو کہاں حسود ہوتا

5

وہ خُدائے پاک معلّی ہے یہ جہبیبِ⚠️ پاک قاسم

کہاں تعیّیں⚠️ یہ باتیں جو نہ دست ہود ہوتا

6

جو وہ ذات بخت ہوتی نہ کوئی بات ہوتی

یوں نہ کوئی عید ہوتا نہ کوئی سجود ہوتا

7

ہے جو آج کیف و مَستی یہ کبھی نہ ہوتی

کوئی اس جہاں میں ساؔجِد نہ یہ وجود ہوتا