شوقِ فراواں

اُنؐ کے در سے جو لگا ہے وہ بُلند اقبال ہے

حق تعالیٰ کے کرم سے دائماً خُوش حال ہے

منزِل طَیَّبہ کے راہی کو کوئی کھٹکا نہیں

مصطفیؐ کا ہر گَدا رحمت سے مالا مال ہے

مہریباں کے روپ میں صیاد کی ہیں سازشیں

خاک کا ہم رنگ بھلیس⚠️ لعیں کا جال ہے

بات اُن کے نام ایواؤں کی ہے سب سے بڑا

منفرد اُن کی ادا اُن کی اِک انوکھی⚠️ چال ہے

مصطفیؐ کے داسطے حق نے جہاں پیدا کیا

جنت الفردوس اُنؐ کے بہر استقبال ہے

روز و شب اپنے گزرتے ہیں سرُور و کیف میں

آپؐ کے لُطف و کرم سے دِل کا اچھا حال ہے

چاہیے سوزِ درون ساجدؔ نبیؐ کی نعت کو

رائیگاں اس بزم میں سب ساز اور سرتال ہے