شوقِ فراواں
1

کیا کبھوں کیا ہے یہ آئینہ سا صورت مجھ کو

جس میں آیا ہے نظرِ نُور حقیقت مجھ کو

2

لی مع اللہ سے ظاہر ہوئی جلوت مجھ کو

ہے عطا اُن کی وِساطَت سے یہ رودتِ⚠️ مجھ کو

3

وہ مِری جاں سے بھی مجھ سے ہیں زیادہ قَریں

قُرب ہے آپؐ کا سرمایۂ رحمت مجھ کو

4

جس کا کوئی بھی نہیں دونوں جہانوں میں شریک

ہے اسی ذات کے محبوب سے نِسبت مجھ کو

5

راہِ محبوبِ خُدا! راہِ خُدا ہے بخدا

تاج و خلعت سے عزیزتر اُن کی اِطاعَت مجھ کو

6

ربِّ عالَم! تِری رحمت کا نہیں کوئی شُمار

آلِ سرُورِ کا مِلے منصبِ خِدمت مجھ کو

7

جانِ و ایمان فِدا آلِؓ عبا پر ساؔجِد

کیا ہی خُوش لگتی ہے یہ گھر کی شرافت مجھ کو