← شوقِ فراواں
کیا کبھوں کیا ہے یہ آئینہ سا صورت مجھ کو
جس میں آیا ہے نظرِ نُور حقیقت مجھ کو
لی مع اللہ سے ظاہر ہوئی جلوت مجھ کو
ہے عطا اُن کی وِساطَت سے یہ رودتِ⚠️ مجھ کو
وہ مِری جاں سے بھی مجھ سے ہیں زیادہ قَریں
قُرب ہے آپؐ کا سرمایۂ رحمت مجھ کو
جس کا کوئی بھی نہیں دونوں جہانوں میں شریک
ہے اسی ذات کے محبوب سے نِسبت مجھ کو
راہِ محبوبِ خُدا! راہِ خُدا ہے بخدا
تاج و خلعت سے عزیزتر اُن کی اِطاعَت مجھ کو
ربِّ عالَم! تِری رحمت کا نہیں کوئی شُمار
آلِ سرُورِ کا مِلے منصبِ خِدمت مجھ کو
جانِ و ایمان فِدا آلِؓ عبا پر ساجدؔ
کیا ہی خُوش لگتی ہے یہ گھر کی شرافت مجھ کو