← شوقِ فراواں
1
ہم سوئے حرم اِذنِ پَیمبرؐ سے چلیں
یہ رہِ مدّو⚠️ خالِقِ اکبر سے چلیں
2
سُلطانِ رِسالت کی ولا زادِ سفر ہے
توسن پر توکّل کے خوشا⚠️ گھر سے چلیں
3
رحمت سے سنور جائے گی لگڈی⚠️ ہماری
پرواندہ لے خُلد کا مَحشَر سے چلیں
4
ایمان کی دولت کو بسائے ہوئے دِل میں
ہم گھر کی طرف آپؐ کے اس ذر سے چلیں
5
کیا حال ہو گا ہمارے دِل و جاں کا
جس روز کہ ہم کوچۂ سرُورؐ سے چلیں
6
اِک آن میں پہنچیں گے خیالوں میں مدینے
اس راہ میں، پہروں کی جگہ سُرؐ سے چلیں
7
کب آئے گا وہ دِن مِرے ارمان یہ ساؔجِد
باندھے ہوئے سب رنجتِ دِل سے چلیں