شوقِ فراواں

ہم سوئے حرم اذنِ پَیمبرؐ سے چلیں

یہ رہِ مدّو⚠️ خالِقِ اکبر سے چلیں

سُلطانِ رِسالت کی ولا زادِ سفر ہے

توسن پر توکّل کے خوشا⚠️ گھر سے چلیں

رحمت سے سنور جائے گی لگڈی⚠️ ہماری

پرواندہ لے خُلد کا مَحشَر سے چلیں

ایمان کی دولت کو بسائے ہوئے دِل میں

ہم گھر کی طرف آپؐ کے اس ذر سے چلیں

کیا حال ہو گا ہمارے دِل و جاں کا

جس روز کہ ہم کوچۂ سرُورؐ سے چلیں

اِک آن میں پہنچیں گے خیالوں میں مدینے

اس راہ میں، پہروں کی جگہ سُرؐ سے چلیں

کب آئے گا وہ دِن مِرے ارمان یہ ساجدؔ

باندھے ہوئے سب رنجتِ دِل سے چلیں