جانِ جہاں
1

سنگ اُن کے لُطف سے لعل بدرخشاں ہو گیا

بے نَوا مفلس بھی ہوشِ سلیماں ہو گیا

2

راہبر تھا شوق اُن کا، ہمسفر اُن کا خِیال

راستہ دُشوار تر تھا اور آساں ہو گیا

3

بللہ الحمد اُن کی آمد پر جہاں روشن ہوا

جس طرح تاریک گھر کوئی شبستان ہو گیا

4

میں پہنچ کر اب سرِ منزِل کروں گا چیت⚠️ گیا

دِل تھا اِک پہلو میں وہ پہلے ہی قُربان ہو گیا

5

اِک نَوازِش سے ہوئیں حل مُشکلیں میری تمام

اِک نظر سے اُن کی، دردِ دِل کا دَرماں ہو گیا

6

دیکھتے ہی سبز گُنبد کھل گئی دِل کی کلی

شُکرِ حق، پورا دِل نالاں کا ارماں ہو گیا

7

اُن کے اِک حرفِ تسلّی سے میں ساؔجِد جی اُٹھا

تھا جو دِل برسوں سے گھلتیں⚠️، شاد و فرحاں ہو گیا