شوقِ فراواں
1

گو کہ ہے منزِل پرانی، راہرو ہر دم نئے

طَیَّبہ و بَطحا وہی ہیں، کیف کے عالَم نئے

2

آرزوئے دِل پرانی، شوق اُلفت بھی کہن

گر چہ آوازیں نئی ہیں نغمے کے زیر و بم نئے

3

بزمِ گیتی میں ہیں اب بھی معطّی⚠️ و قائم وہی

ہیں نئے مظہر بیکاری⚠️ اور ہیں حاتم نئے

4

رونقِ حق کو وہی دینے ہے رشمِ⚠️ درود

ہیں نئے جمشید و تاج و تخت و جام جم نئے

5

راستے حق کا پرانا، صاف اور ہموار ہے

شرکے⚠️ ہیں رستے نئے رستوں کے پیچ و خم نئے

6

طَیَّبہ کی آب و ہوا پہلے کا سا ہے مزا

لاکھ دُنیا میں نئے گُلشن ہیں اور موسم نئے

7

شوق ہے ساؔجِد پرانا، ذوق بھی پارینہ ہے

تا ابد آقا وہی ہیں باقی ہیں ہم نئے