نور و سرور
1

اُن کے جمالِ رُخ کی رہی بات ‘ رات بھر

تھے ہر زُباں پہ آپؐ کے نغمات ‘رات بھر

2

گزری تمام رات صلوٰۃ و سلام میں

بٹتا رہا خزینہِ برکات ‘ رات بھر

3

کوئی ہمیں سناتا رہا اُن کے تَذکِرے

ہوتا رہا نزولِ عِنایات ‘ رات بھر

4

کتنے ہی ماہتاب تھے محفِل میں ضَوفشاں

برسی ہے خوب نُور کی برسات ‘ رات بھر

5

اُس چشمِ اِلتِفات نے بے حد کرم کیا

دیکھی ہے ہم نے لُطف کی بُہتات ‘ رات بھر

6

انبوہ تشنگاں تھا سرِ سَلسبیلِ فیض

واللہ جو تھی صورتِ حالات ‘ رات بھر

7

کتنے عظیم لوگ تھے ساؔجِد نِگاہ میں

جن سے رہی ہے اپنی ملاقات‘ رات بھر