← نور و سرور
وہ بادشاہِ جن و بشر بے مِثال ہے
صورت میں گو بشر ہے مگر بے مِثال ہے
پہلو میں کائنات نظر میں ہے لامَکاں
پہلو ہے بے مثیل نظر بے مِثال ہے
سرحدِ نبیؐ کی شان ہے ماورائے فکر
یہ علم بے نَظِیر خبر بے مِثال ہے
دورِ رسُولؐ کی وہ بہاریں وہ نکھتیں
ہر شام لاجواب سحر بے مِثال ہے
پتّھر کے دِل سے نُور کا چشمہ ابل پڑے
سرکارؐ کی نظر کا اثر بے مِثال ہے
درپے جو کاٹنے کے تھے اُن پر بھی وہ مُحیط
رحمت کا سایہ دار شجر بے مِثال ہے
ساجد نبیؐ کی ذات ہے واصِل بہ ذاتِ حق
شامِل وہ خَلق میں ہے مگر بے مِثال ہے