نور و سرور
1

وہ بادشاہِؐ جن و بشر بے مِثال ہے

صورت میں گو بشر ہے مگر بے مِثال ہے

2

پہلو میں کائنات نظر میں ہے لامَکاں

پہلو ہے بے مثیل نظر بے مِثال ہے

3

سرحد نبیؐ کی شان ہے ماورائے فکر

یہ علم بے نَظِیر ‘ خبر بے مِثال ہے

4

دورِ رسُولؐ کی وہ بہاریں وہ برکتیں

ہر شام لاجواب سحر بے مِثال ہے

5

پتّھر کے دِل سے نُور کا چشمہ اُبل پڑے

سرکارؐ کی نظر کا اثر بے مِثال ہے

6

درپے جو کاٹنے کے تھے اُن پر بھی وہ مُحیط

رحمت کا سایہ دار شجر بے مِثال ہے

7

ساؔجِد نبیؐ کی ذات ہے وابستہ ذاتِ حق

شامِل وہ خَلق میں ہے مگر بے مِثال ہے