شوقِ فراواں

کرم سے ہم تم ہوئے مرہم⚠️ ابھی

ہوئے کافور رنج⚠️ و غم ابھی

یہ سب آثار اُن کے لُطف کے ہیں

ہوئے آسان پیچ⚠️ و غم ابھی

لبوں پر ہے نبیؐ کا نام بار⚠️ ہے

ہوا پر ہمارا دم ابھی

مثجوا⚠️ ہے تذکرہ شہرِ⚠️ نبیؐ کا

ہے سرشاری کا اِک عالَم ابھی

فقَط اِک چشمِ رحمت سے سنور جائیں

سبھی احوال دِل برہم ابھی

محبت کی ابھی ہے ابتدا ہے

یہ کیا دارو کیا مرہم ابھی

ابھی تو رائیگزر⚠️ آساں ہے ساجدؔ

پریشاں ہیں مِرے ہمدم ابھی