جانِ جہاں

توفیقِ حق سے مصطفیٰ ﷺ بالاختیار ہے

دشمنِ خُدا کا شاہِ رُسُل ﷺ تاجدار ہے

ہر سُو ہیں رنگ و نُور کے منظَر نظر نَواز

یادِ بہارِ شہرِ نبی ﷺ عطر بار ہے

کچھ غم نہیں ہے گرمیِ آلام کا ہمیں

سایۂ کُناں جو رحمتِ پروَردِگار ہے

ہوئی عطا مجھے بھی زیارتِ رسُول ﷺ کی

مُدّت سے چشمِ جاں کو مِری انتظار ہے

کیا اعتدال موسموں کا خوب ہے یہاں

آب و ہوا یہاں کی بڑی خوشگوار ہے

یہ نِسبتِ قلندری کا فیض ہے تمام

اونٹی⚠️ گدائے کوئے نبی ﷺ شہریار ہے

خون و عرق⚠️ ہے اسے کوئی نہ رنج و غم

ساجدؔ نبی ﷺ کی آل کا خِدمت گُزار ہے