حرفِ نیاز

جب کبھی یاد تری دل میں اُتر آتی ہے

شکل تیری مجھے ہر سمت نظر آتی ہے

جامِ مستی کا پلاتی ہے مری شام مجھے

کیف بردوش مری سمتِ سحر آتی ہے

دل یہ کہتا ہے تجھے ہوگی زیارت اِن کی

تیری باری بھی اب اے دیدۂ تر! آتی ہے

منتظر ہوں مجھے کب اذنِ حضوری ہو گا

دیکھتا ہوں مجھے کب ایسی خبر آتی ہے

جب کوئی تیرِ جفا میری طرف آتا ہے

یادِ محبوبِ جہاں بن کے سپر آتی ہے

دیکھنا آمدِ محبوب پہ ساجدؔ کیسے

سرخوشی سارے جہاں کی میرے گھر آتی ہے