نور و سرور

سلطانِ کائناتِ خدا کا حبیب ہے

سرِّ تجلّیاتِ خدا کا حبیب ہے

نُورِ نبیؐ کی روشنی ہے عرش و فرش پر

صد رونقِ حیاتِ خدا کا حبیب ہے

پرتو ہے اُن کے حُسن کا رعنائے حیات

اِک دفترِ صفاتِ خدا کا حبیب ہے

تقویٰ ہے جِس کی آنکھ میں معیارِ امتیاز

عالی گہر وہ ذاتِ خدا کا حبیب ہے

طوفاں میں جِس کا نامِ ہُوا نُوحؒ کی پناہ

وہ مائۂ نجاتِ خدا کا حبیب ہے

شیرینیِ کلام پہ جِس کی جہاں فدا

وہ معدنِ نباتِ خدا کا حبیب ہے

ساجد ہے جِس کی چشمِ عنایت سے شادِ کام

وہ جانِ کائناتِ خدا کا حبیب ہے