رباعیاتِ ساجد

"مخفی میں خزانہ تھا، نِہاں شان مِری

کچھ بھی نہ تھا موجُود تھی آن مِری

تخلیق کے لئے میں نے یہ سارے عالَم

تا اہل بصیرت کو ہو پہچان مِری"