رباعیاتِ ساؔجِد
1

"مخفی میں خزانہ تھا، نِہاں شان مِری

کچھ بھی نہ تھا موجُود تھی آن مِری

تخلیق کے لئے میں نے یہ سارے عالَم

تا اہل بصیرت کو ہو پہچان مِری"