شوقِ فراواں

منّتی⚠️ ہے آپ سے یہ دیدۂ تر دیکھنا

اِس طرف بھی اے حبیبِ ربِّ اکبر! دیکھنا

انہوں پر بن کے ابرِ لطف وہ چھا جائیں گے

شانِ آقا کے کرم کی روزِ محشر دیکھنا

ہاتھ پھیلائے کھڑا ہے اُن کے در پر کیتباد⚠️

اُن کے کوچے میں گداگری⚠️ ذِ⚠️ قیصر دیکھنا

اُس سے جو بھی بنھو⚠️ گیا وہ سنگ گوہر ہو گیا

بے گماں پارس ہے اُن کے در کا پتھر دیکھنا

راہ جاتی ہے یہ سیدھی نور کے ایوان کو

رات دن اُن کو تصوّر میں برابر دیکھنا

کیا ہی جاں افزا مواجب⚠️ کا ہے منظرِ دلِ مٹھا⚠️

وہ ریاضِ انبیا⚠️ اور محراب و منبر دیکھنا

رات دن مشتقِ⚠️ تصوّرِ مشغل⚠️ ہو ساجدؔ مرا

حق کے پیغمبر کا وہ مثلِ⚠️ پیکر دیکھنا