شوقِ فراواں

حق نے ہم پر یہ لطف فرمایا

شاہؐ کے در سے بے بہا پایا

شاد ہیں ہم ہیں عطائے یزداں سے

شکر! کیا کچھ نصیب میں آیا

جب نظر آیا شہرِ بلتا⚠️ کا

دل مرا سرخوشی سے لہرایا

تخت کو چھوڑو کر قبول کریں

اُن کی دیوار کا جھنگ⚠️ سایا

ہمیں ابلیس نے کئی بدلے

جال میں اُس کے کچھ نہیں آیا

ظالموں نے قریب کیا نہ دیے

نور نے انجھنوں⚠️ کو سلجھایا⚠️

فضلِ ایزد سے ہے ولائے نبیؐ

ساجدؔ نعتِ گو کا سرمایا