← شوقِ فراواں
راہ جس رہرو کی ہے راہِ سنّت سے الگ
زندگی اُس کی نہیں ہوتی شقاوت⚠️ سے الگ
اُسوۂ احمد میں ہے صلح و صفا پاکیزگی
یہ بھی کیا جینا ہوا جذب و محبت سے الگ
رحمت للعالمین گل انبیا کے ہیں امام
ایک ذرّہ بھی نہیں ہے نورِ رحمت سے الگ
انبیا سارے اُنہی کے نور ہیں بہرِ⚠️ در
کوئی کب ہے آپ کے فیضِ رسالت سے الگ
اِن طبیبوں کے یہاں کب زخمِ اُلفت کا علاج
چارہ اِن زخموں کا ہے سنگِ جراحت سے الگ
زندگی اُن کی نوازش سے بڑی آسان ہے
وہ گراں ہے جو گھڑی ہے اُن کی رحمت سے الگ
نعتِ آقا کی رواں ساجدؔ ہے نوکِ کلک پر
لکھ نہیں سکتا میں کچھ بھی اُن کی مدحت سے الگ