← حرفِ نیاز
اِک نشہ سا مُدام رہتا ہے
کس سے دل بے کلام رہتا ہے ⚠️
شکرِ ایزد کہ خلوتوں میں مری
تذکرہ اُن کا عام رہتا ہے
ہے ابھی میرے دل میں شوقِ دُرود
اے خدا! میرا کام رہتا ہے
رشکِ یاقوت ہیں وہ لب جن پر
میرے آقا کا نام رہتا ہے
تذکرہ اُن کے گیسوؤں رُخ کا
صبح رہتا ہے شام رہتا ہے
نامکمل ابھی ہے میرا سفر
اُن کے در کا سلام رہتا ہے
آج کل لحظہ لحظہ ساجدؔ کو
انتظارِ پیام رہتا ہے