← حرفِ نیاز
جُز ترے نام کے جی اپنا بہلتا ہی نہیں
کاروانِ شوق کا رُکتا ہے تو چلتا ہی نہیں
پھر اُترتا نہیں چڑھ جائے اگر رنگِ نبیؐ
رہروِ عشق روِش اپنی بدلتا ہی نہیں
ہر گھڑی زمزمہ خواں ہے ترے انوار کی رُت ⚠️
تیرے الطاف کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں
قید ہوتے ہی عطا ہوتا ہے شاہی کا لباس
کوئی قیدی ترے زنداں سے نکلتا ہی نہیں
یادِ محبوب ہے ساجدؔ مرے نغمات کی جاں
جذبۂ جاں کا سوا نغمہ اُبلتا ہی نہیں