حرفِ نیاز

اے شاہ! دلِ زار پہ رحمت کی نظر ہو

مجھ بے کس و نادار پہ رحمت کی نظر ہو

سرکار! گناہوں سے بُرا حال ہے میرا

سرکار! گنہگار پہ رحمت کی نظر ہو

ہے چشمِ نوازش تری چارہ گرِ عالم

جان و دل بیمار پہ رحمت کی نظر ہو

اِک عمر سے جو منتظرِ جلوۂ رُخ ہے

اِس دیدۂ خوں بار پہ رحمت کی نظر ہو

اِس سمت بھی اِک جلوہ مرے ماہِ منور!

میرے در و دیوار پہ رحمت کی نظر ہو

تنہا ہوں بہت دور ہے منزل مری آقا!

واماندۂ رفتار پہ رحمت کی نظر ہو

ساجدؔ ہو مرا وِرد زبانِ نعتِ محمدؐ

میرے لبِ گفتار پہ رحمت کی نظر ہو