حرفِ نیاز

خیالِ نبیؐ موجِ زندگی ہے

یہی سرخوشی ہے یہی بے خودی ہے

جہاں میں اُجالا ہے نورِ نبیؐ سے

ہر اِک بزم میں آپؐ کی روشنی ہے

رواں اس مسافر کی جانب ہے منزل

میسّر جسے آپؐ کی رہبری ہے

ابھی خام ہے میرا ذوقِ محبت

ابھی شوق کی میرے دل میں کمی ہے

زمانے کی کشتی کے وہ ناخدا ہیں

زمانے کی بگڑی انہیں سے بنی ہے

رگِ جاں ہے ساجدؔ مجھے ذکرِ اُن کا

محمدؐ کی مدحت مری زندگی ہے