حرفِ نیاز

زِ فرق تابقدم نور ہے رسولِ خدا

نشے میں ذات کے محشور ہے رسولِ خدا

جنابِ حق میں ہر اِک بات ہے قبولِ تری

ہر التجا تری منظور ہے رسولِ خدا

ہے تیری یاد کی مستی مری رگ و پے میں

ترے خُمار سے دل چُھور ہے رسولِ خدا ⚠️

خدا کے نام کے پہلو میں نامِ پاکِ ترا

جبینِ عرش پہ مستور ہے رسولِ خدا

کے ہے تاب کہ دیکھے وہ رُخ بغیرِ حجاب

ہزار جلوؤں میں مستور ہے رسولِ خدا

ہوائے خُلد چلی ہے چھڑا ہے ذکرِ ترا

فضا نشاط سے معمور ہے رسولِ خدا

ہر ایک قول ہے لاریب زندگی کا اصول

ہر اِک عمل تیرا منشور ہے رسولِ خدا

نگاہِ لطف سے ساجدؔ کو اپنے پاس بلا

غلام تجھ سے ترا دُور ہے رسولِ خدا