حرفِ نیاز

زہے نصیب مجھے مژدۂ سفر آئے

مرے حضور! شبِ ہجر کی سحر آئے

نبیؐ کی یاد میں کیا کیا عطا ہوا دل کو

نبیؐ کے شوق میں کیا کیا حسین نظر آئے

میں کائنات کا حُسن و جمال نذر کروں

رُخِ رسولِ خدا گر مجھے نظر آئے

نگاہِ شوق ہے سجدہ تجھے یہاں لازم

وہ دیکھ! خسرو عالم کے بام و در آئے

ہے پہنچا کون اُس اوقی لقب کی دانش کو

جہاں میں لاکھ خرد مند باہنر آئے

نبیؐ کے جلوؤں سے روشن ہے قدسیوں کا جہاں

نبیؐ کے جلوے بہر انجمن نظر آئے

نگاہِ لطف نے ساجدؔ حیاتِ نو بخشی

عبث علاجِ مرا کرنے چارہ گر آئے