← حرفِ نیاز
سفر نصیب ہو میرے خدا مدینے کا
ہو شوقِ دل میں میرے لوں مزا مدینے کا
اُن عطر بیز بہاروں کا کوئی حال سُنا
پیام لا کوئی بادِ صبا مدینے کا
بسا ہے میری نگاہوں میں منظرِ طیبہ
بہشت ہے چمنِ جاں فزا مدینے کا
یہ کس نے گھول دیں شیرینیاں مرے مُنہ میں
زباں پہ ذکر ہے صلِّ علیٰ مدینے کا
ہر ایک وجہ محبت کی جلوتوں کا ایں
ہر ایک گوشہ ہے نغمہ سرا مدینے کا
غم و الم سے مرا دل ہے خوبچکاں ساجدؔ
تو چھیڑ تذکرۂ کیف زا مدینے کا