حرفِ نیاز

گائی جو میں نے نعتِ محمدؐ ترنگ میں

دوڑی نشے کی لہر مرے انگ انگ میں

کچھ اور ہی فضا ہے دیارِ حبیبؐ کی

ہر ایک شے ہے ڈوبی ہوئی حسن و رنگ میں

طوفان آ گیا ہے تمنائے شوق میں

سیلاب ہے رواں میرے دل کی اُمنگ میں

یادِ نبیؐ کی مستیوں کو ظرف چاہیے

آتے ہیں چند پھول ہی دامانِ تنگ میں

تیری نظر کا فیض ہے ناموسِ زندگی

شامل ہے تیرا لطف مرے نام و ننگ میں

ساجدؔ خدا کی دین ہے ذوقِ سماع بھی

کرتی ہے رقص روح مری بزمِ چنگ میں