حرفِ نیاز

گلشن گلشن زمزمے تیرے صحرا صحرا تیری بات

محفل محفل تیری کہانی جانِ تمنّا! تیری بات

تیری جبیں کے جلوؤں سے روشن ہے چراغِ بزمِ حیات

سورج کی کرنوں کی زباں پر تیرا چرچا تیری بات

پھوٹتی ہیں رنگین بہاریں تیری شگفتہ یادوں سے

مہکی مہکی تیری حکایت صبحا صبحا تیری بات

تیری رحمت کے سائے میں پلتے ہیں کونین شبّا ⚠️

تیرا اشارہ حضرِ سراپا ہے دم عیسیٰ تیری بات

تیرے تصدق مشکلیں حل ہوتی ہیں سنورتے ہیں سب کام

حشر کے روز بھی بن جائے گی اپنا سہارا تیری بات

زندگی گذرے تیری محبت کا دم بھرتے گُن گاتے

ہو دم آخر ساجدؔ کے ہونٹوں پر آقا تیری بات