حرفِ نیاز

محمدؐ مصطفیٰ صلِّ علیٰ نورِ خدا آئے

ہر سو جلوے برساتے ہوئے نفسِ المطمئنیٰ آئے

حرمینِ کبریا ہے جن کی منزل مرحبا آئے

اسی جانب ہماری رہبری کو مصطفیٰؐ آئے

دلوں کو نکتۂ توحید سے سرشار کرنے کو

سنانے مژدۂ جنّت امامِ انبیاء آئے

دلِ بے تاب کو آخر سکوں آیا قرار آیا

مقدّرِ دل کا جاگ اُٹھا کہ دل کے آشنا آئے

لگائے ہیں رخِ زیبائے جلوے نورِ مطلق کے

چھٹے ہیں ظلمت کے بادل پھر نور نیا آئے

ہمیں بھی آرزو اُن کی بہت ہے چین رکھتی ہے

ہمارے نام بھی پیغام اے بادِ صبا آئے

نہیں ہو گی شکایت اب کسی کو تنقید کاکی

بجائے تفتیشی جان و دل بحرِ عطا آئے

اِدھر بھی اک نظر ساجدؔ بھی شامل ہے گداؤں میں

ہماری سمت بھی چشمِ کرم نامِ خدا آئے