← حرفِ نیاز
مطلعِ دل و جاں ہے فیضان تیرا
کرم ہے جہاں پر مری جان! تیرا
قصیدہ سرا تیرے ارض و سما ہیں
ہے ہر ایک ذرّہ ثناخوان تیرا
جلو میں ترے پھول برسائیں حوریں
اٹھائیں ملائک قلمدان تیرا
خدا کا ہے جلوہ ترا نورِ آقا!
خدا کا ہے عرفان عرفان تیرا
محیطِ جہاں ہے ترا ابرِ رحمت
ہے سارے زمانے پہ احسان تیرا
خدا کا اشارہ ہے تیرا اشارہ
خدا کا ہے فرمان فرمان تیرا
گزر کس کا ہو تیرے خلوت کدے میں
کہ جلوت گہِ حق ہے ایوان تیرا
گزار اپنے دن رات ساجدؔ خوشی سے
حبیبِ خدا ہے نگہبان تیرا