جانِ جہاں

آلامِ روزگار کے طوفاں ٹل گئے

رُخِ حادثوں کے لطفِ نبی ﷺ سے بدل گئے

رعنائیاں بہار کی دیکھیں جو باغ میں

ارماں دل میں دیدِ نبی ﷺ کو مچل گئے

خیرات روشنی کی ملی اُن کی بزم سے

خورشید و ماہ چل کے وہاں سر کے مل گئے

محفل میں خوب خوب پڑی⚠️ یائیاں⚠️ ہوئیں

دیوانِ نعت ہم لیے زیرِ بغل گئے

آئینے بن گئے وہ شہِ دیں ﷺ کے حُسن کے

جتنے بھی لوگ اُسوۂ احمد ﷺ میں ڈھل گئے

دیکھی جو میرے دل میں محبّت حسین کی

قلبِ اُن یزیدیوں کے عداوت سے جل گئے

ساجدؔ منی⚠️ جو خونِ شہیداں کی داستاں

آنکھوں سے میری خون کے آنسو نچھل گئے