← جانِ جہاں
سنگ اُن کے لطف سے لعل بدرخشاں ہو گیا
بے نوا مفلس بھی ہوشِ سلیماں ہو گیا
راہبر تھا شوق اُن کا، ہمسفر اُن کا خیال
راستہ دشوار تر تھا اور آساں ہو گیا
بللہ الحمد اُن کی آمد پر جہاں روشن ہوا
جس طرح تاریک گھر کوئی شبستان ہو گیا
میں پہنچ کر اب سرِ منزل کروں گا چیت⚠️ گیا
دل تھا اک پہلو میں وہ پہلے ہی قربان ہو گیا
اک نوازش سے ہوئیں حل مشکلیں میری تمام
اک نظر سے اُن کی، دردِ دل کا درماں ہو گیا
دیکھتے ہی سبز گنبد کھل گئی دل کی کلی
شکرِ حق، پورا دل نالاں کا ارماں ہو گیا
اُن کے اک حرفِ تسلّی سے میں ساجدؔ جی اُٹھا
تھا جو دل برسوں سے گھلتیں⚠️، شاد و فرحاں ہو گیا