جانِ جہاں

چاہے جو اُنہیں ایسا طلبگار کہاں ہے

بے چین ہے رحمت کہ گنہگار کہاں ہے

ہم اُس کے گلِ رخ سے کمیں گے⚠️ بہاریں

جو آپ ﷺ کی الفت میں ہے سرشار، کہاں ہے

انوار کی کثرت ہے مگر دل میں ہے حسرت

آنکھوں میں مری جوہرِ دیدار کہاں ہے

مل جائے کوئی مردِ مقایش⚠️ تو پوچھیں

مل⚠️ جائے کوئی مردِ صفائش⚠️ تو پوچھیں

صاف اور گھری جنس کا بازار کہاں ہے

صانع کا نشاں صنع سے ہوتا ہے ہویدا

یہ ڈھونڈیے فن کار کا شہکار کہاں ہے

زخمی کی کسی سمت سے آواز تو آئے

کہتا ہے مسیحا میرا بیمار کہاں ہے

جلووں کی بہاریں ہیں جہاں سارے میں ساجدؔ

یہ دیکھے گا مطلعِ انوار کہاں ہے