جانِ جہاں

گر سایہ ملے آپ ﷺ کی دیوارِ حرم کا

کچھ خوف نہیں گرمیِ آلام و ستم کا

جو مزرعِ دل تشنگ⚠️ تھا وہ آج ہے شاداب

احسان یہ سب آپ ﷺ کے ہے ابرِ کرم کا

جبریل بھی اس بات سے واقف نہیں زنہار

اندازہ ہو کیا آپ ﷺ کے قوسِ کے⚠️ قدم کا

وہ علمِ خداداد نبی ﷺ کا ہے فقط رُو⚠️

جو علم کہ ہے زیرِ نہاں لوح و قلم کا

ہم پائے شہِ دیں ﷺ کا نہیں کوئی جہاں میں

کب ہو مقابل ہے کوئی شانِ اتم⚠️ کا

دل والوں کے ہے سامنے تحریرِ قضا کی

کب نام گوارا ہے اُنہیں سانحِ⚠️ جم⚠️ کا

تھوڑی سی جگہ چاہیے کوچے میں نبی ﷺ کے

ساجدؔ کو نہیں شوق کوئی باغِ ارم کا