جانِ جہاں

نامِ رسول ﷺ پاک سے طوفان ٹل گیا

سیلابِ غم کا راستہ بیکر⚠️ بدل گیا

اُن کے کرم سے رنگِ مقدّر بدل گیا

بے برگ و بے ثمر جو شجر تھا وہ پھل⚠️ گیا

حیراں عدو تھا اُن کے خداداد علم پر

بوجہل دیکھ کر نبی ﷺ کی شان جل گیا

اُن کی نگاہِ لطف سے کافور غم ہوئے

دل میں مرے مجھا⚠️ ہوا کانٹا نکل گیا

بے واسطہ ظہورِ نبی ﷺ کا خدا سے ہے

جلوۂ خدا کا آپ ﷺ کی صورت میں ڈھل گیا

دیکھا جو میں نے گنبدِ خضریٰ، ہزار شکر

دل تھا شکستہ حال، خوشی سے سنبھل گیا

ساجدؔ پہ ہوں گی رحمتیں بے حد و بے حساب

دیوانِ نعت لے کے وہ زیرِ بغل گیا