← جانِ جہاں
سامنے آنکھوں کے جب گنبدِ خضریٰ ہو گا
للہ الحمد، کرم ہم پہ خدا کا ہو گا
راحت و کیف کا سامان مہیّا ہو گا
غمِ امروز نہ اندیشۂ فردا ہو گا
خوب تسکین لے گی ہمیں زمزم پلا کر
دردِ آلام کے ماروں کا مداوا ہو گا
آج آفاق میں نقّارہ بجا ہے اُن کا
حشر کے روز فردوں⚠️ آپ ﷺ کا چرچا ہو گا
لوگ سب دوڑیں گے محبوبِ خدا کی جانب
عالم اک شورشِ فریاد کا برپا ہو گا
آپ ﷺ جب چشمِ عنایات سے ہمیں دیکھیں گے
پھر بکھرا⚠️ لطف سے دامانِ تمنّا ہو گا
قوسِ فکر ہے ساجدؔ کا بہت تیز، خوشا
شعر کے فن میں بھی اس کو یہ بطولی⚠️ ہو گا