محرابِ جاں

ہر ایک ذرّے میں ہے جو نہاں وہی ہے خدا

جو ہر جگہ ہے تجلّی فشاں وہی ہے خدا

جہاں سارا ہے آغوشِ نور میں جس کی

کراں سے تا بہ کراں بے کراں وہی ہے خدا

جہاں میں نعمتیں جس کی ہیں بے حساب و شمار

جو بے مثال ہے اور بے نشاں وہی ہے خدا

تمام چہرے ہیں جس کی تخلیقوں کے چراغ

تمام جس کے ہیں یہ آستاں وہی ہے خدا

ہیں جس کے مسخّر⚠️ جنّ و وحشی⚠️ و انساں

طیور جس کے لیے نغمہ خواں وہی ہے خدا

نہیں ہے عالم کو ٹھکانا⚠️ جس کے جلووں میں

ہے جس کا ہر گھڑی تازہ جہاں وہی ہے خدا

اسی کا حسن ہے ساجدؔ جہاں کی زیبائی

سبھی جس کی ہیں رعنائیاں وہی ہے خدا