← محرابِ جاں
بزمِ کونین میں ایسا کوئی مہتاب نہیں
روشنی ایسی نہیں جلوہ نہیں آب نہیں
غم و آلام میں یہ عمر گئے⚠️ کی ساری
دل اگر یادِ شہِ دین سے شاداب نہیں
رات دن درد جدائی سے لبوں پر ہے فغاں
دل کو تسکین نہیں صبر نہیں تاب نہیں
کس طرح بھیک درِ رحمتِ حق سے مانگوں
کیا کروں عرض کہ میں واقفِ آداب نہیں
مظہرِ ذاتِ احد دل کا ہے قبلہ کعبہ
پیکرِ نور وہ کب جاں کی محراب نہیں
دولتیں ملتی ہیں سب دستِ کرم سے اُن کے
کب عنایاتِ خداوند کا دا⚠️ باب نہیں
ایک طوفاں ہے نہاں خانۂ دل میں ساجدؔ
بات کہنے کو مگر حلقۂ احباب نہیں