← نور و سرور
اُن کے جمالِ رُخ کی رہی باتِ رات بھر
تھے ہر زباں پہ آپؐ کے نغماتِ رات بھر
گزری تمام رات صلوٰۃ و سلام میں
بنتا رہا خزینۂ برکاتِ رات بھر
کوئی ہمیں سناتا رہا اُن کے تذکرے
ہوتا رہا نزولِ عنایاتِ رات بھر
کتنے ہی ماہتاب تھے محفل میں ضوفشاں
بری ہے خوبِ نُور کی برساتِ رات بھر
اُس چشمِ التفات نے بے حد کرم کیا
دیکھی ہے ہم نے لُطف کی بہباتِ رات بھر ⚠️ [بہبات: شاید "بہتات"]
انبوہ تشنگاں تھا سرِ سَلسبیل فیض
واللہ جو تھی صورتِ حالاتِ رات بھر
کتنے عظیم لوگ تھے ساجد نگاہ میں
جن سے رہی ہے اپنی ملاقاتِ رات بھر