← نور و سرور
سفر نصیب ہو مرے خدا! مدینے کا
ہے دل میں شوقِ زیارت بڑا مدینے کا
نظر فروزِ بہاروں کا کچھ تو حال سنا
پیام لا کوئی باد صبا! مدینے کا
دلوں کے پھول ہمیشہ کھلے ہیں یہاں
سدا بہار کا موسم ہُوا مدینے کا
بڑے مزے کی ہیں شیرینیاں مرے منہ میں
کہ لب پہ نام ہے صلِّ علیٰ مدینے کا
ہر ایک ذرہ محبت کی روشنی کا چراغ
ہر ایک گوشہ ریاضِ وفا مدینے کا
بہت ہے دل مرا بے تاب حاضری کے لیے
زباں پہ ذکر ہے صُبح و مسا مدینے کا
دعائیں دے گا یہ قلبِ حزیں تجھے ساجد
تُو چھیڑ ذکرِ مبارک ذرا مدینے کا