نور و سرور

سلطانِ جہاں، حضرتِ محبوبؐ دو عالم

کونین پہ ہے رحمتِ محبوبؐ دو عالم

وہ قلبِ حقیقت کی تجلّی سے ہے روشن

جِس قلب میں ہے صورتِ محبوبؐ دو عالم

سرخم ہیں سلاطیں کے درِ شاہِ رسلؐ پر

ہے شوکتِ حق، شوکتِ محبوبؐ دو عالم

دریُوزۂ لطف ہیں سب خاکی و نُوری

ہے شانِ خدا، عظمتِ محبوبؐ دو عالم

توفیق دے تو سمجھ نکتۂ توحید

دشوار نہیں حکمتِ محبوبؐ دو عالم

اندیشۂ فردا نہ آسے غمِ امروز

حاصل ہے جسے نسبتِ محبوبؐ دو عالم

ساجد مرا دل رہتا ہے مسرور ہمیشہ

ہے وردِ مرا مدحتِ محبوبؐ دو عالم