نور و سرور

محبوبِ کردگارِ رسولؐ خدا ہُوا

فرزندِ آمنہؒ کا شیۂ دوسرا ہُوا

نُورِ خدا سے نُورِ محمدؐ جدا ہُوا

عالم تمام مطلعِ نُور و ضیا ہُوا

اُن کے فیوض سے ہمیں کیا عطا ہُوا

غم آشنا ہُوا کوئی نغمۂ سرا ہُوا

جلوہ ہے نُورِ ذاتِ کی صورتِ رسولؐ کی

دیکھا ہے جِس نے اُن کو وہ حق آشنا ہُوا

منزل نے بڑھ کے اِس کو گلے سے لگا لیا

جِس کارواں کا رہنما مصطفیٰؐ ہُوا

معراج کیا ہے اہلِ خرد اتنا جان لیں

نُورِ رسولؐ، واصلِ نُورِ خدا ہُوا

صلِّ علیٰ، محبتِ مہرِ علیؒ کا فیض

ساجد بھی آج شاملِ بزم ثنا ہُوا