← نور و سرور
نبیؐ کے جسم کی خُوشبو ہے بطحا کی ہواؤں میں
اُنہی کے حُسن کے ہیں رنگِ پھولوں کی قباؤں میں
غلامانِ محمدؐ کو یُونہی مت دیکھ بے ساماں
قیامت کا لیے سامان بیٹھے ہیں نواؤں میں
ولیے سے نبیؐ کے مانگ جو ہے مانگنا تجھ کو
قبولیت کا ہے جوہر نہاں ایسی دعاؤں میں
بھروی اشکوں کی ہے آلام میں پیغامِ رحمت کا
چھپے ہوتے ہیں موتی فیضِ کالی گھٹاؤں میں
محمدؐ کی گُلی کے ہیں بھکاری رومیؒ و جامیؒ
سلاطینِ زمانہ ہیں بھی انؓ کے گداؤں میں
بصدقِ اخلاص اُن کے در پہ دامانِ طلب پھیلا
سمندر ہیں سخا کے موجزن اُن کی عطاؤں میں
جو ہو لطف و عنایت کی نظر مسکینِ ساجد پر
شُمار اِس کا بھی ہو سلطان کے مدحت سراؤں میں