نور و سرور

دیتا ہے بزمِ حق کا پتا درِ رسولؐ کا

نُورِ احد ہے جو ہر پیکرِ رسولؐ کا

دل کُھل گئے خوشی سے سُنی جب نوائے حق

پہنچا پیامِ سرمدی گھر گھر رسولؐ کا

یہ خاکداں نُورِ سے معمور ہو گیا

احسان ہے جہاں بشر پر رسولؐ کا

کِس کو ہے تاب برملا دیکھے رُخِ نبیؐ

جلوۂ خدا کا ہے رُخِ انور رسولؐ کا

یہ کم نظر روئیں گے اپنی نگاہ کو

دیدار ہو گا جب سرِ محشر رسولؐ کا

رنج و الم سے اِس کا کوئی واسطہ نہیں

ہونٹوں پہ جِس کے ذکر ہے اکثر رسولؐ کا

ساجد ہے ذکرِ مصطفیٰؐ ہی میری زندگی

ہے شیفتۂ مرا دلِ مضطر رسولؐ کا