← نور و سرور
بطحا کی فضا اور ہے رنگ اور سماں اور
یہ شہرِ حسیں چھوڑ کے ہم جائیں کہاں اور
اِس نامِ مبارک کا کریں ذکر شب و روز
درکار ہے اِس ذکر کو لب اور زباں اور
جب فیضِ نظر دیتے ہیں جِگر بھی
ہوتی ہے دل و جاں کو عطا تاب و تواں اور
تم پہلی نظر میں ہو آئینۂ حیرت
اِس چہرے سے ہوں گے ابھی انوار عیاں اور
پرواز کو پہلے کے پر و بال ہیں بے کار
اب چاہیے جذب اور تمنا بھی جواں اور
ہیں خاکنشیں تاجِ شہی قدموں میں اُن کے
پیغمبرِ حق کے ہے غلاموں کا نشاں اور
ہر صبحِ نئی نعت مرے لب پہ ہے ساجد
تائیدِ خداوند سے ہے طبعِ رواں اور