رباعیاتِ ساجد

ثبات و پاس

روتی ہیں مصیبت میں یہ آنکھیں پہروں

نعت کا کھلے باب تو خُوشیاں لاکھوں

لازم ہے ثبات اور ضروری ہے پاس

نعت بھی مصیبت بھی کسوٹی دونوں