رباعیاتِ ساجد

اوامر و نواہی

دو تکمیل اوامر سے رہے دل آباد

پرہیز نواہی سے ہمہ دم ہو یاد

تقدیر پہ راضی رہے بندہ رب کا

جیلان کے ہے پیر کا عالی ارشاد