رباعیاتِ ساجد

محنت

اسلاف تو تھے ان کے معزز اکثر

غفلت سے یہ بے کار ہوئے خاک بہ سر

یہ بھول گئے محنت و کاوش کا پھل

اب سیکھ گئے ٹوٹکے جنتر منتر