رباعیاتِ ساجد

اسباب نَجات

سنے گا بصد غور یہ حکمت کی بات

ملتی نہیں ہیں محض نسب سے آفات

بے سود ہیں القاب و خطابات تمام

تقویٰ و نکوئی ہیں یہ اسباب نَجات