رباعیاتِ ساجد

حج

کہتے تھے قریش اس میں ہماری ذلّت

عرفات میں ہم نظہریں سبھوں کی صورت

ہے حکم خدا ''سارے ڈُبیں سے لوئیں''

حج کیا ہے مساوات کی شان و شوکت