رباعیاتِ ساجد

جو بندہ شا⚠️ حق کی بیاں کرتا ہے

قدر اُس کی بھی خلاقِ جہاں کرتا ہے

پیش آتا ہے ہٹا⚠️ اُسے حق ایسا ہی

جس طور کوئی حق سے گماں کرتا ہے