رباعیاتِ ساجد

ہیں ذات کے اظہار کے درجے کتنے

ممکن نہیں ہم جانیں، یہ رُجھے⚠️ کتنے

جتنا کہ ہو ظرف اُتنی ہی آگاہی ہو

حق جانے، جہاں کتنے ہیں شُعبے کتنے